ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / زرعی سائنسدان اگریکلچر یونیورسٹی تک محدود نہ رہیں، کسانوں کی مجموعی ترقی کیلئے کام کریں: وزیر زراعت بی سی پاٹل

زرعی سائنسدان اگریکلچر یونیورسٹی تک محدود نہ رہیں، کسانوں کی مجموعی ترقی کیلئے کام کریں: وزیر زراعت بی سی پاٹل

Thu, 19 Nov 2020 00:02:03    S.O. News Service

بنگلورو،18؍نومبر(ایس او نیوز) زراعت کے ماہرین کو چاہئے کہ وہ زرعی شعبہ میں ڈاکٹروں کے طو رپر کام کریں۔ زرعی سائنسدان اور اگریکلچر یونیورسٹی کے پروفیسر زرعی یونیورسٹی کے حدود سے باہر نکلیں۔ زراعت سے متعلق جو معلومات ہیں یہ معلومات عام کسانوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ یہ باتیں ریاستی وزیر زراعت بی سی پاٹل نے کہیں۔

شہر میں گاندھی کرش وگیان کیندرا(جی کے وی کے) کے 55ویں یومِ تاسیس کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے پاٹل نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی میں ریسرچ کے کاموں کو مزید معیاری بنانے کی ضرورت ہے۔ جی کے وی کے کے پروفیسر زرعی سائنسدانوں کے ساتھ مل کر عام کسانوں کے مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مسائل کے حل کیلئے عنقریب ریاستی حکومت کی طرف سے کرشی سنجیونی اسکیم جاری کی جائے گی۔ ریاست کے تمام کسانوں کو حکومت کی طرف سے شناختی کارڈ جاری کئے جائیں گے۔”سوا بھیمان کسان‘ نام سے جاری کئے جانے والے اس شناختی کارڈ میں کسان کی تصویر کے ساتھ اس کے نام ”پیشہ“ اس کی زرعی زمین اور بینک کھاتے سے متعلق تفصیلات درج ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ کرشی سنجیونی اسکیم کے تحت محکمہ زراعت کی طرف سے کسانوں کیلئے لیابس قائم کئے جائیں جن میں زراعت کے ماہرین کسانوں کو ان کی زرعی زمین کی مٹی کی زرخیزی سے متعلق معلومات فراہم کریں گے۔ ان مراکز کیلئے لیباٹریز کی سہولیات سے لیس 20موبائل وین فراہم کئے جائیں گے، جو کسانوں کی زمینوں تک جاکر مٹی کی خاصیت کی جانچ میں مدد کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے کسانوں کی مدد کیلئے ایک دن کسانوں کے ساتھ پروگرام شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔


Share: